احمد آباد،25؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)گجرات اسمبلی انتخابات میں اپنی چھاپ چھوڑنے والے پاٹیدار تحریک انامت کمیٹی کے کنوینر ہاردک پٹیل نے بی جے پی کی جیت پر سوال اٹھائے ہیں۔ ہاردک نے ایک بار دعوی کیا کہ گجرات میں وی ایم سے چھیڑ چھاڑ ہوئی تھی اور اسی وجہ سے بی جے پی جیتی۔اب اپنے اگلے مشن اور حکمت عملی کو لے کر ہاردک نے کچھ باتیں کہیں جو قابل غور ہیں۔انہوں نے کہا کہ گجرات بڑے پیمانے پر بیدار ہو گیا ہے اور آنے والے وقت میں اور بیداری آئے گی۔یہ ہارنے-جیتنے سے زیادہ اہم بات ہے۔میری محنت کی وجہ سے 22 سال سے اپوزیشن میں رہی کانگریس مضبوط ہوئی ہے۔مجھے اس پرفخر ہے ۔ انہو نے کہا کہ بی جے پی نے 150 سیٹوں کا ہدف تیار کیا تھا، لیکن اس کے صرف 99 سیٹیں ملیں۔بی جے پی کی اکڑ اب کہاں گئی؟ جو بھی گھبراہٹ میں 99پر سمٹ جائے، وہ مستقبل میں اچھی کارکردگی نہیں کر سکتی۔انہوں نے کہا کہ ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے۔میں یہ ثابت کر سکتا ہوں۔بی جے پی کو پتہ تھا کہ اسے اکثریت حاصل نہیں ہو گی۔انہوں نے شک سے بچنے کے لئے چھیڑچھاڑکو 99 پر روک دیا۔انہوں نے کہا کہ نتیجے ہی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔بی جے پی نے ایسے علاقوں میں کامیابی حاصل کی ہے، جہاں اس کا نام ونشان نہیں تھا۔ چاہے سورت شہر ہو، احمد آباد، مہسانا، جہاں پاٹیدار کمیونٹی کے لوگوں کے ساتھ سب سے زیادہ ظلم ہوئے وہ صرف ای وی ایم گھوٹالے سے ہی ایسا کر سکتے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی اپنا کاغذ تیار کر چکے ہیں اور عدالت میں جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ دیہات میں بی جے پی کا صفایا ہو گیا۔نہ صرف سوراشٹر کی دیہی سیٹوں پر بلکہ زیادہ تر دیہی علاقوں میں کانگریس کی کارکردگی بی جے پی سے بہتر رہی۔2012 میں جب بی جے پی نے کامیابی حاصل کی تھی، تو پوراگجرات خوش تھا۔اس بار صرف دو لوگ خوشی منا رہے تھے۔باقی گجرات بے بس محسوس کر رہا تھا۔گجرات میں کوئی بھی اس طرح کی جیت سے خوش نہیں ہے۔انہوں نے کہا کانگریس کے لئے 100 سے 102 سیٹوں کے درمیان۔کانگریس کے امکانات کو خراب کرنے کے لئے جان بوجھ کر کوششیں کی گئیں۔اگر الیکشن منصفانہ ہوتے تو بی جے پی کو 78-81 سیٹیں ہی ملتیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں اس بات سے متفق ہوں کہ دونوں پارٹیوں نے کانگریس کے ووٹ شیئر میں نقب لگائی۔ایسی 20 سیٹیں تھیں، جہاں کانگریس کو 200, 500, 1,000, 2000 اور2,500 ووٹوں سے نقصان ہوا۔ہم آسانی سے 10-15 سیٹیں اور جیت سکتے تھے۔ہر دوسرے اسمبلی انتخابات کی طرح بی جے پی نے گجرات میں بھی کانگریس کو کمزور کرنے کے لئے بی ایس پی کو لڑایا۔انہوں نے کہا میں نے ان سے ملاقات کی تھی، لیکن کام نہیں ہو پایا۔